Friday, 27 April 2012
تازہ بستیاں
مان لیتے ہیں کہ حکومت اپنے کام میں بری طرح سے ناکام ہے۔ اس کی وجہ نااہلی ہو، کرپشن ہو ، بددیانتی ہو یا ان سب کا مرکب، سوال یہ اٹھتا ہے کہ اپنی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی حالت زار کو بدلنے کے لئے میں نے اور آپ نے کیا کیا؟ بے مراد حکومت سے ہر شکوہ بجا کہ وہ وسائل مملکت کے رکھوالے ہیں، مگر پیہم ان کی کاوش بے ثمر پر اشکباری کرنے یا گلی کوچوں میں واویلا اور توڑ پھوڑ سے نہ اب تک کچھ سدھرا ہے اور نہ آگے سدھرنے کی توقع ہے۔ یہ دنیا دارالعمل ہے یہاں بن بیج کے برگ وبر نہیں ہوتےبن کوشش قومیں کیونکر سدھر سکتی ہیں۔
اب ایک ذرا سی مثال سے معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ ہم آئے روز مہنگائی کا رونا تو رو لیتے ہیں کیونکہ یہ عمل سے نسبتا سہل راستہ ہے۔ مگر ہم میں سے کتنے اپنے زور بازو پر بھروسہ کر کے اس مسلئے کا ایسا حل نکالتے ہیں جو نہ صرف ہمارے لئے بلکہ ہمارے اردگرد کے لوگوں کے لئے بھی مفید ہو۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد انگلستان میں غذا کی شدیدقلت ہوئی تو حکومت نے لوگوں کو اپنے گھروں میں، صحنوں میں حتی کہ کھڑکیوں میں سبزیاں اور پھل اگانے کا حکم دیا۔ نتیجہ یہ کہ نہ صرف غذائی قلت قابو میں رہی بلکہ لوگوں میں خودانحصاری کا جذبہ بھی پیدا ہوا۔ جاپان میں لوگ اپنے گھر کے آگے کا معمولی سا حصہ بھی رائیگاں نہیں جانے دیتے اور کچھ نہ کچھ سلاد وغیرہ اگا لیتے ہیں۔
پاکستان میں بالعموم اور بڑے شہروں میں بالخصوص ہمیں اپنے ماحول اور قدرتی وسائل سے جنگ کرنے کی عادت ہے۔ رہائش سے لے کر خوراک اور پوشاک تک ہر شے چن کر وہ جسے ہمارےماحول سے دور کا واسطہ تو کیا مکمل ضد ہے۔گھروں کے ڈیئزائن کو دیکھیں تو پہلے ہم انہیں پکی اینٹوں اور کونکریٹ سے تنوروں کی طرز پر تعمیر کرتے ہیں اور پھر انڈسٹریل سائز کی مشینوں سے انہیں ٹھنذا کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ انسولیشن اورگرم و سرد ہوا کے فطری طرز عمل کو کام میں لا کر ہم گھروں کو گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم رکھ سکتے ہیں۔ اور اتنی بات تو ہزاروں سال پہلے کا انسان بھی جاھتا تھا کہ گرم ماحول میں ہلکے رنگوں کے کھلے اور سوتی کپڑے مفید ہوتے ہیں۔ جینز آلودہ اور کوٹ ذدہ لوگوں کو مگر کون بتائے۔ ہم مذہب کا ویسے تو بہت نام لیتے ہیں مگر سادگی، قناعت اور فطرت سے ہم آہنگی کا سبق پتہ نہیں کیوں بھول جاتے ہیں۔ زندگی میں مثبت تبدیلی اپنے وسائل بڑھانے سے نہیں اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے سے آتی ہے۔
دراصل جن گھمبیر مسائل سے ہم دوچار ہيں طرز فکر اور طرز عمل میں بنیادی تبدیلی کے بغیر ان سے نپٹنا ممکن نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ارباب اختیار کی نا اہلی اور کرپشن سنگین مسائل ہیں مگر در حقیقت اصل خرابی خود ترحمی کے اس انداز فکر کی ہے جو اپنی حالت خود سدھارنے کی بجائے ہر کام خدا اور پھر ان مصلحت کوش حکمرانوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بجلی کی قلت کے جن مسائل کا ہمیں سامنہ ہے اس کےپیش نظر ہم3سب کو اجتماعی، انفرادی اور رضاکارانہ طور پر ہر اس مشینری، ہر اس آلے اور ہر اس عادت سے پرہیز کرنا پڑے گا جو توانائی کے بے جا استعمال کا باعث ہیں۔ گرمیوں سے بچاؤ کی قدرتی تدابیر اختیار کریں۔ ہلکے رنگوں کے سوتی لباس، درختوں اور پودوں کی فراوانی گرمی کے اثر کو کم کرتے ہیں۔ گھروں کی بیرونی دیواروں پر سفید اور ہلکے رنگوں کی قلعی کريں، برآمدوں میں چقیں استعمال کریں۔ باہر کی دیواروں پر بیلیں چڑھانے سے قدرتی انسولیشن ہو گی۔ گروں کی چھتوں پر سبزیاں اگانے سے دوہرا فائدہ ہوگا اول گھر کی سبزیاں اور دوم انسولیشن۔ بارش کے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے پرنالوں سے پائپ لگا کر اسے ذخیرہ کریں اور اپنے پودوں کو پانی دیں۔ جب ہم اپنے قدرتی وسائل کو بروئےکار لا کر قناعت پسندانہ زندگی جینے کا ہنر پا جائیں گے تب ہی اپنی آنے والی نسلوں کو ہم اس قیمتی متاع سے روشناس کر پائیں گے۔